راولپنڈی کا باوقار سیاست دان — آغا ریاض الاسلام

تحریر ؛ خالد حسین قریشی

یہ نام راولپنڈی کی سیاسی فضاؤں میں ایک ایسا نام ہے جو آج بھی سنجیدگی، شائستگی اور وقار کی پہچان سمجھا جاتا ہےاور وہ نام ہے ،آغا ریاض الاسلام۔ وہ شخصیت جنہوں نے کئی دہائیوں تک اس شہر کی سیاست میں نہ صرف اپنی موجودگی محسوس کرائی، بلکہ سیاسی رویّوں میں برداشت، شرافت اور اصول پسندی کی مثال بھی قائم کی۔آغا ریاض الاسلام کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ انہیں پارٹی کے وفادار اور ثابت قدم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا سیاسی سفر اُس وقت نمایاں ہوا جب 1979 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ راولپنڈی کے مئیر منتخب ہوئے۔ مگر وہ دور ملکی تاریخ کے نازک ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، اور اسی دکھ اور احتجاج کے باعث آغا ریاض الاسلام نے مئیر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر اس بات کا اظہار کیا کہ سیاسی وابستگی محض کرسی یا منصب کا نام نہیں—بلکہ اصول اور نظریے کا نام ہے۔بعد ازاں ان کا سفر مزید آگے بڑھا۔ 1989 کے عام انتخابات میں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ عوامی مسائل، حلقے کی تعمیر و ترقی اور سیاسی شائستگی ان کی پہچان بنے رہی۔ وہ ہر دور میں پارٹی کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے رہے۔ مقامی سیاست میں ان کا کردار اتنا مؤثر تھا کہ 2001 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران انہوں نے ’’عوام دوست گروپ‘‘ تشکیل دے کر راولپنڈی کی سیاست میں نئی جہت پیدا کی۔ یہ گروپ سیاسی وابستگی سے بڑھ کر عوامی خدمت کا زاویہ لیے سامنے آیا۔2002 میں وہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر میدان میں اترے۔ اگرچہ یہ انتخاب وہ نہ جیت سکے، مگر انتخابات سے پہلے اور بعد تک ان کی سیاسی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ ذاتی فائدے سے زیادہ عوامی رابطے اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا احترام نہ صرف پیپلز پارٹی میں تھا بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں بھی انہیں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔آغا ریاض الاسلام کی شخصیت کا ایک پہلو مذہبی اور روحانی مزاج بھی تھا۔ لیاقت روڈ پر ان کے دفتر ’ربیہ منزل‘ میں محفلِ درود شریف کا باقاعدہ اہتمام ہوتا تھا۔ زندگی کے آخری برسوں میں بھی یہ سلسلہ قائم رہا، اور جہاں سیاسی کارکن ان سے ملاقات کے لیے آتے، وہیں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ روحانی سکون کے لیے بھی ان کی محفلوں کا رخ کرتے تھے۔2015 میں ان کا انتقال راولپنڈی کی سیاست کے لیے ایک اہم نقصان تھا۔ ان کی نمازِ جنازہ اسی جگہ ادا کی گئی جہاں وہ برسوں سے سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ ڈھوک الٰہی بخش کے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی، اور یوں راولپنڈی نے ایک باوقار رہنما کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا۔آغا ریاض الاسلام کی سیاسی زندگی میں اتار چڑھاؤ ضرور آئے، مگر ان کی شرافت، اصول پسندی، نرم خوئی اور عوامی وابستگی نے انہیں آج بھی شہر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ وہ مقامی سیاست کا وہ چراغ تھے جو بجھ تو گیا، مگر اس کی روشنی اب تک محسوس کی جاتی ہے۔یہ روشنی ہی اصل وراثت ہےاور یہی آغا ریاض الاسلام کی پہچان بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں