حماس نے 10 سال کے لیے مشروط جنگ بندی کی پیش کش کردی
دوحہ (اے ایف بی)فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے پیشکش کی ہے اگر اسرائیل غزہ سے مکمل طور پر فوجی انخلاء کرے اور ثالث معاہدے پر عمل درامد کی ضمانت دیں تو وہ جنگ بندی 10 سال تک برقرار رکھنے کو تیار ہے اور اس کا عسکری ونگ اپنے ہتھیاروں کو دفن کر دے گا ۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق حماس نے قاہرہ میں ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ ایک دہائی تک غزہ سے اسرائیل کے خلاف تمام جارحانہ کارروائیوں کو منجمد کرنے کے لیے تیار ہے، اور اگر اسرائیلی فوج مکمل طور پر غزہ سے نکل جاتی ہے تو حماس اپنے ہتھیاروں کو دفن کرنے کے لیے تیار ہے، بات چیت سے واقف ایک سینئر فلسطینی اہلکار نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ یہ پیشکش گزشتہ ہفتے قاہرہ میں مصری، قطری اور ترکی کے ثالثوں کو پیش کی گئی تھی۔ یہ پیشکش حماس کے جنگ بندی کے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو تیز کرنے کے لیے اہم ترین پیش رفت ہے۔حماس نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ غزہ سے اسرائیل کے خلاف کوئی ہتھیار نہیں چلایا جائے گا، اور وہ ہتھیاروں کو دفن کر دیں گے ۔ حماس نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان سات سے دس سال کے لیے الہدنہ ( طویل مدتی جنگ بندی کے لیے اسلامی روایت میں استعمال ہونے والی اصطلاح) کے قیام کی پیشکش کی ہے، اس دوران حماس اسلحہ استعمال نہیں کرے گی۔” ثالثی کرنے والی ریاستوں کی طرف سے ہدنا کی ضمانت دی جائے گی، جو تعمیل کے ضامن کے طور پر کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ حماس اپنا اسلحہ چھپا دے گی جائے گا، اور ثالث حماس کی طرف سے کیے گئے وعدوں کی براہ راست نگرانی کرسکیں گے۔ اس عرصے کے دوران حماس غزہ کی تعمیر نو میں مصروف رہے گی اور اندرونی نظم و نسق کا سنبھالے گی۔ حماس اس سے پہلے کئی بار واضح کر چکی ہے وہ مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطین پر مکمل قبضہ ختم ہو نے تک ہتھیار کسی کے حوالے نہیں کرے گی ۔تحریک مزاحمت نے بارہا کہا ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خلاف اس کی مسلح جدوجہد فلسطین کی آزادی تک جاری رہے گی۔ آزادی کے بعد ہتھیار فلسطین کی منتخب جمہوری قیادت کے حوالے کریں گے ۔





