گورڈن کالج کی نجکاری مذاکرات کامیاب احتجاج تحریک موخر

،راولپنڈی (اے ایف بی) گورڈن کالج راولپنڈی کی ممکنہ نجکاری کے خلاف احتجاج میں پنجاب پروفیسر اینڈ لیکچررزایسوسی ایشن ، طلبا ایکشن کمیٹی اور انتظامیہ کے مابین ک مذاکرات کامیاب ، انتظامیہ کی یقین دہانی پر ”کالج بچائو ”تحریک کو موخر ، مذاکرات کے بعد ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن شیر احمد ستی نے تحریری آر ڈرجاری کر دیئے جن کے مطابق گورڈن کالج کے پرنسپل اور وائس پرنسپل کے علاوہ کالج کے اسٹیٹ افسرکو فوری طور پران کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے کام سے روک دیا گیا ہے اسسٹنٹ کمشنرشگفتہ جبین، ڈائریکٹر کالجزشیر احمد ستی، طلباکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کالجز شیر احمد ستی اوراساتذہ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے فیصلے کے مطابق طلبا کو سپریم کورٹ میں دائر کی جانیوالی رٹ کے علاوہ کالج کے حوالے سے کسی بھی معاملے میں طلبا کو بھی بطور فریق شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے مذاکرات میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ کالج اپنی جگہ پرقائم رہے گا اور امریکی چرچ کو کوئی اور جگہ دی جائیگی انتظامیہ نے گورڈن کالج کا نام تبدیل کرکے محمڈن کالج رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ اگلے مذاکرات راولپنڈی کی لوکل انتظامیہ سے نہیں ہونگے بلکہ سیکریٹری ہائر ایجوکیشن سے ہونگے اس ضمن میں ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن شیر احمد ستی کی جانب سے جاری آفس آردر نمبر 2089کے تحت ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ایجوکیشن محمد نفیس اور اکنامکس کے لیکچرار ذیشان اکرم کو فوری طور پربطور وائس پرنسپل اپنی ذمہ داریاں روکنے کی ہدائیت کی گئی ہے جبکہ گریڈ19کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ایجوکیشن ڈرائینگ اینڈ ڈسپرسنگ افسر(ڈی ڈی او)ڈاکٹرمحمد ادریس سے بھی ان کا چارج واپس لے لیا گیا ہے دریں اثنا ڈائریکٹر کالجز شیر احمد ستی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ طلباکے اعتراضات پر گورڈن کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ادریس اوروائس پرنسپل ڈاکٹر نفیس کے علاوہ کالج کے اسٹیٹ افسر ذیشان اکرم کو بھی عہدے سے ہٹادیا گیاہے جبکہ کالج کی ممکنہ نجکاری سے متعلق طلبا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی، ضلعی انتظامیہ اور اساتذہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور یہ مشترکہ کمیٹی گورڈن کالج کی نجکاری سے متعلق عدالت سے رجوع کرنے کے علاوہ کالج کے معاملات کو مشترکہ طور دیکھے گی مذاکرات کی کامیابی کے بعد کالج بچائو تحریک کو موخر کرنے کے اعلان کے ساتھ احتجاجی طلبا پر امن منتشر ہو گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں