آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی جلد از جلد میرٹ پر کی جائیں، فاروق حیدر

اسلام آباد (اے ایف بی)سابق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی جلد از جلد میرٹ کی بنیاد پر ہوجانی چاہیے، بار بار مشاورت کی وجہ سے خدشات جنم لے رہے ہیں یہ بہت نازک معاملہ ہے میں بھی بہت ساری باتوں کا آمین ہوں آزادکشمیر بارکونسل سے بحیثیت شہری مطالبہ کرتا ہوں کہ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ تقریبا ایک سال ہوگیا ہے ہائیکورٹ میں صرف چیف جسٹس ہیں کوئی دوسرا جج نہیں اس معاملے میں غیر ضروری طوالت نامناسب ہے اگر پندرویں ترمیم کرنی ہے تو ججز کے اختیارات واپس لینے کے لیے ہونی چاہیے جو پہلے ترمیم کرکہ آزادکشمیر اسمبلی نے اپنا یہ اختیار واپس اسلام آباد کو دیدیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 13 ویں ترمیم میں یہ تجویز پیش کی تھی مگر اس وقت اعلی عدلیہ کے سابق ججز نے اتفاق نہیں کیا تھا بقول ان کے اس کا حشر شریعت کورٹ کے ججز جیسا ہوسکتا تھا۔

راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ حسن ابراہیم اس معاملے میں بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں ورنہ جے کے پی پی کے حوالے سے بھی اس معاملے پر تمام باتیں بشمول عدالتی فیصلے سامنے لاؤں گا، ہمارے دور میں ججز کی تقرری پر بولی لگانے کی کوشش کی گئی تھی جس کو میں نے روکا تھا اگر ججز کی تعیناتی میں کوئی شفاف طریقہ نہ اپنایا گیا تو پھر تمام باتیں عوام کے سامنے پیش کرونگا، ججز کی تقرری میں بنیادی کام دونوں چیف جسٹس صاحبان کا ہے اُمید ہے صدر ریاست اس کا احترام کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ایک شفاف عدلیہ کے لیے کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے دونوں صاحبان پر مکمل اعتماد یقین ہے کہ وہ اپنا آئینی و قانونی اختیار استعمال کر کے اس معاملے کو یکسو کرینگے اور اس حوالے سے سفارشات مختصر ہونگی

اپنا تبصرہ بھیجیں