تعلیمی اداروں کی بندش ؛احتجاجی دھرناسینکڑوں اساتذہ اسلام آباد میں پہنچ گئے

راولپنڈی(اے ایف بی)کورونا وبا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف سپریم کونسل آف آل پاکستان سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ڈی چوک میں دھرنے میں شرکت کے لیئے ملک بھر سے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان،حقوق کے کام کرنے والی ایسو سی ایشن کے عہدیداران اور سینکڑوں اساتذہ اسلام آباد میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں،جہاں پر کنوینئر ڈاکٹر محمد افضل بابر،جنرل سیکرٹری حافظ محمد بشارت،ابراراحمد خان،چوہدری ناصر محمود، ملک اظہر محمود، چوہدری محمد عبید اللہ، راجہ ارشد، چوہدری عمران، شہباز قمر، چوہدری محمد طیب، زعفران الٰہی، انعام الدین قریشی، صابر رحمٰن بنگش، افتخار علی حیدر، چوہدری محمد ایاز، محمد آصف، مظہر الاسلام، محمد جاوید، محمد عثمان ودیگرخطاب کریں گے،ہمارااحتجاج  پرامن ہے،جس کے لیئے آج ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت گیارہ اپریل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرے۔

اس حوالے سے ابرار احمد خان نے بتایاہے کہ ہزاروں تعلیمی اداروں کے مالکان، مر د و خواتین اساتذہ،طلباء و طالبات، بچوں کے والدین، سول سوسائیٹی کے نمائندے، پبلشرز، سٹیشنری، یونیفارم، سکول بیگ دکان مالکان، پک اینڈ ڈراپ کی سروس دینے والے، کینٹین مالکان، پرنٹنگ کا کام کرنے والے ورکرز، چوکیدار، آیا و دیگرافراد ہمارے ساتھ اس پْر امن دھرنے میں شریک ہونگے، اگر انتظامیہ نے پولیس کے ذریعے رکاوٹ ڈالی تو نتائج کی ذمہ دار اسلام آباد انتظامیہ ہوگی۔ بلڈنگ کے کرائے اور یوٹیلیٹی بلز اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر پچیس ہزار تعلیمی ادارے اب تک مستقل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ حکومت نجی تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے ابھی تک کوئی پروگرام نہیں بنا سکی الٹا ان سے پانی بجلی،گیس کمرشل ٹیکسیز،پراپرٹی ٹیکس،انکم ٹیکس، اولڈ ایج بینیفٹ کنٹریبیوشن، سوشل سیکورٹی کنٹریبیوشن جرمانوں کے ساتھ وصول کیے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Protected with IP Blacklist CloudIP Blacklist Cloud