نجی تعلیمی اداروں کا 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان


راولپنڈی (اے ایف بی ) راولپنڈی و اسلام آباد کی تمام تنظیموں پر مشتمل سپریم کونسل نے 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان کر دیا اور مختلف امور کی انجام دہی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر ورکنگ کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ہمیں حکومت کے کسی وعدے کا اعتبار نہیں رہا۔ اب سپریم کونسل نے متفقہ طور پر 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مظاہرے میں ملک بھر کی سکولز تنظیموں کے علاوہ پیرینٹس، سول سوسائیٹی، پبلشرز، طلباء و طالبات، سٹیشنری مالکان، کینٹین کے مالکان،بک بائنڈرز ڈرائیور پک اینڈ ڈراپ، یونیفارم اور سکول بیگز بنانے والے بھی شریک ہونگے۔

۔ میڈیا کوارڈینٹر ابرار احمد خان کے مطابق سپریم کونسل کا ایک اجلاس سپریم کونسل کے کنوینئرڈاکٹر محمد افضل بابر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں حافظ محمد بشارت،  چوہدری محمد طیب، چوہدری ناصر محمود، زعفران الہی، افتخار احمد، چوہدری ایاز، چوہدری عبیداللہ، زاہد بشیر ڈار،راجہ ارشد،  محمد آصف، ملک نسیم احمد، صابر رحمن بنگش، چوہدری عمران،انعام قریشی راجہ ارشد، عبدالوحید اور مظہر الاسلام شرکت کی۔ شرکاء اجلاس نے نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے نجی شعبہ کو ہونے والے غیر معمو لی نقصان اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والا حکومتی رویہ پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا۔   شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نجی تعلیمی ادارے تو ایک ماہ سے بند ہیں اب جو کورونا پھیل رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اس کا واضع مطلب ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کا سبب نجی تعلیمی ادارے نہیں ہیں۔

 زعفران الہی کے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ 15 مارچ کو پورے ملک میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیتی اور اس وقت تک صورتحال کافی بہتر ہوتی۔ سپریم کونسل میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں سکولوں کی بمدش کے باعث لاکھوں اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھی اور ہم اس رمضان المبارک میں انھیں حالات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومتی وزراء  بیانات کی حد تک رہے اور صرف طفل تسلیاں دیتے رہے لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ سپریم کونسل کے سامنے یہ بات بھی لائی گئی کہ تین ماہ قبل سپریم کونسل کے ممبران کی وفاقی وزیر شفقت محمود سے میٹنگ ہوئی جس میں انھوں نے واضع طور پر کہا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے لیے ہم نے بلاسود آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا جامع پروگرام تیار کرلیا ہے۔ بس کابینہ سے منظوری لینی باقی ہے۔ اس کے بعد کابینہ نے بہت سے بل منظور کیئے مگر سکولوں کے لیے کسی پیکج پر کام نہ ہوسکا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں

Protected with IP Blacklist CloudIP Blacklist Cloud