70 سالہ پاک چین دوستی نئے عہد میں مضبوط ترین فولاد میں ڈھل چکی، چینی وزیرخارجہ

اسلام آباد/ بیجنگ(اے ایف بی)  چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای کا کہنا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان 21 مئی 1951 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ گزشتہ ستر برسوں میں چین اور پاکستان نے مل کر تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے منفرد ’’آہنی دوستی‘‘ تشکیل دی ہے۔ پاک چین دوستی دونوں ممالک کا سب سے قیمتی اسٹرٹیجک اثاثہ بن چکی ہے۔اپنے بیان میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ پاک چین دوستی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ جیسا کہ چین کے آنجہانی وزیراعظم چو این لائی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ چین اور پاکستان کے عوام کے دوستانہ تبادلوں کی شروعات کا مشاہدہ تاریخی ادوار سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم نے دو ہزار سال قبل ہی چین اور پاکستان کو مربوط کردیا تھا۔ دونوں ممالک کے عوام کے مابین قدیم وقتوں میں اونٹ کی گھنٹیوں کے ساتھ قائم ہونے والے تعلقات ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں اس وقت مضبوط ترین پاک چین دوستی میں تبدیل ہوچکے ہیں، جس میں روزبروز مزید پختگی آتی جارہی ہے۔

پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے کلیدی مفادات اور اہم تحفظات سے وابستہ امور میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں خواہ بیرونی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین کی سفارت کاری کو فروغ دینے کا کلیدی موقع ہو یا پھر پاکستان کو درپیش ملکی بحران اور قومی وقار کے دفاع کے کلیدی لمحات، چین اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور عملاً ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر حقیقی دوستی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ پاک چین دوستی کی جڑیں عوام کے دلوں میں گھر کرچکی ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کسی بھی آزمائش میں ہمیشہ ایک دوسرے کی فوری امداد کرتے رہے ہیں۔ حمایت و امداد کے یہ جذبات غیر مشروط اور مخلصانہ طور پر دوستی کے بے لوث جذبے کے بہترین ترجمان ہیں۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 2008 میں چین کے ون چھوان شہر میں شدید زلزلہ آیا، اُس موقع پر پاکستان نے فوری طور پر اپنے پاس موجود تمام خیمے چین کے زلزلہ زدہ علاقوں کو فراہم کردیے۔ 2007 میں پاکستان کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس مشکل گھڑی میں چین زمینی و فضائی ذرائع سے عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ میں وسیع ترین بین الاقوامی انسان دوست امدادی سرگرمیاں عمل میں لایا۔ عظیم دوستی کا سفر ایسی لاتعداد کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔پاک چین دوستی کو دونوں ممالک کے عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔ پاک چین تعلقات نئی صدی میں داخل ہونے کے بعد بھی روایتی گرم جوشی سے جاری ہیں جبکہ گزرتے وقت کے ساتھ اعلیٰ درجے کا معیاری تعاون فروغ پارہا ہے۔ 2015 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ کیا اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مل کر پاک چین تعلقات کو ’’چاروں موسموں کے تزویراتی شراکت دارانہ تعلقات‘‘ تک آگے بڑھایا، جس سے پاک چین دوستانہ تبادلوں کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Protected with IP Blacklist CloudIP Blacklist Cloud