تعلیمی اداروں کے کھلنے سے قبل اساتذہ اور طلبہ کے لازمی کورونا وائرس ٹیسٹ کا معاملہ

راولپنڈی (اے ایف بی)تعلیمی اداروں کے کھلنے سے قبل اساتذہ اور طلبہ کے لازمی کورونا وائرس ٹیسٹ کا معاملہ، حکومت پنجاب کی طرف سے اساتذہ یا طلبہ کے کورونا ٹیسٹ کی کوئی لازمی شرط نہیں رکھی گئی، سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن (ر) محمد عثمان نے متعلقہ اداروں کو وضاحتی خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق اساتذہ اور طلبا کشمکش کا شکار تھے ان کی پریشانی کا ازالہ کرتے ہوئیسیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن (ر) محمد عثمان نے سے واضح کردیا گیا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے اساتذہ یا طلبہ کے کورونا ٹیسٹ کی کوئی لازمی شرط نہیں رکھی گئی، حکومت پنجاب کی جانب سے اساتذہ اور بچوں کی ٹیسٹ رپورٹ لانے کی کوئی شرط نہیں۔

سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کا کہناتھا کہ کورونا وائرس ٹیسٹ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد حکومت پنجاب کی طرف سے کیے جائیں گے۔ تعلیمی اداروں کے ٹیسٹ کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائی جا چکی ہے۔ ہائی رسک اضلاع کے ہر تعلیمی ادارے سے پندرہ روز میں ایک دفعہ رینڈم سیمپلنگ کی جائے گی۔کیپٹن (ر) محمد عثمان کا کہناتھا کہ سرکاری سطح پر رینڈم سیمپلنگ کے علاوہ کسی ٹیسٹ کی کوئی شرط نہیں۔ سرکاری سطح کے علاوہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ اساتذہ یا طلبہ سے رپورٹ طلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ والدین، اساتذہ اور طلبہ کورونا وائرس کی علامات اور دیگر معلومات کے لیے 1033 پر رابطہ کریں۔ پرائمری ہیلتھ کے سوشل میڈیا اکانٹس کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی جا سکتیں ہیں۔

واضح رہے کہ سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں کورونا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، این سی او سی کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں تعلیمی اداروں میں کورونا ٹیسٹ ہوں گے۔ صوبے بھر کے مجموعی طور پر 986 تعلیمی اداروں سے سیمپلز لئے جائیں گے۔383 تعلیمی اداروں سے ہر پندرہ روز بعد سیمپلنگ ہوگی، 603 تعلیمی اداروں سے رینڈم سیمپلنگ کی جائے گی۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کا کہنا تھا کہ کورونا ٹیسٹ کے نمونے حاصل کرنے کے لئیمحکمہ تعلیم کی ٹیموں کی ٹریننگ بھی کروائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں