وزیراعظم آزادکشمیر نے آرمی چیف سے اپنی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کرانے کا مطالبہ کردیا

مظفرآباد(اے ایف بی)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیرمیں پانچ لاکھ لوگوں کو غیر قانونی طور پر شہریت دیدی ہے اور اس کا15لاکھ لوگوںکو شہریت دینے کا منصوبہ ہے جس سے مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ آرمی چیف سے مطالبہ کرتا ہوںکہ کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کی شناخت کو ختم ہونے سے بچانے کیلئے باضابطہ طورپر اپنی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کریں ، مظلوم کشمیر یوں کو نجات دلائیں اور ان اقداما ت کو روکیں۔ پاکستان کی بقاکشمیرسے منسلک ہے،آخری وقت میں قائد اعظم کی زبان پر کشمیر تھا۔ پاکستان کے خلاف یہاں کوئی سازش پنپنے نہیں دینگے۔ باہر بیٹھ کر ہندوستانی ایجنٹی کرنے والوںکو بتانا چاہتاہوں کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے پاکستان کی خاطر بے پناہ مشکلات اور قربانیاں جھیلیںاور دنیا کی تیسری بڑی فوجی قوت کا نہتے ہاتھوں مقابلہ کررہے ہیں۔ اس ماں ،اس بیٹی ،اس بہن اور اس والد پر کیا گزر رہی ہے جن کا کل آسرا ہندوستانی فوج نے شہید کر دیا۔ سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، اشرف صحرائی نے عمر کا بیشتر حصہ ہندوستانی عقوبت خانوں میں گزارا مگر ان کے پائیہ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ مقبوضہ کشمیرمیں جاری مسلح جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتی۔ پاک فوج کے شہدانے دفاع وطن اور آزادکشمیر کے دفاع کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دیں ، اپنی جانوں کو نذرانہ پیش کیا۔ شہید کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ نبی رحمتۖ نے بھی شہادت کی آرزو کی ۔

یوم دفاع پاکستان کے موقع پر جموں وکشمیر لبریشن سیل اورپاک کشمیر آرٹس کونسل کے زیر اہتمام یوم دفاع کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین وزیر اعظم معائنہ و عملدرآمد کمیشن زاہد امین ،سیکرٹری صاحبان حکومت، سربراہان محکمہ جات، خواتین اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد موجودتھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ افواج پاکستان کے ہر شہید کی آزادکشمیر میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین ہوگی۔ کشمیر ی دنیا کی تیسری بڑی فوجی قوت کا نہتے ہاتھوں مقابلہ کررہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے خلاف کشمیری پاکستان میں شامل ہونے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیںلیکن ان کے جذبہ میں تنکے برابر کمی نہیں آئی ۔ پاکستان کی بقا کیلئے جانوںکو نذرانہ دینے والے شہداہمیشہ زندہ رہیں گے۔انہوںنے کہاکہ جو قومیں شہداکو بھلا دیتی ہیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، شہداکی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرینگے۔ نوجوان ہندوستان کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ ہندوستان ایک منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑی ہے ، انشااللہ وہ کبھی اپنے مکروہ عزائم میںکامیاب نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، اللہ رب العزت شہداکی قربانیوں کے صدقے کشمیریوں کو آزادی نصیب فرمائے،جرات دلیری کی مثال اگر دیکھنی ہو تو پاک فوج کے شہدا کی داستان پڑھیں ۔نشان حیدر پانے والے عظیم شہداکیپٹن محمد سرور شہید،میجر طفیل محمد شہید،میجر راجہ عزیز بھٹی شہید،میجر محمد اکرم شہید،پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید،میجر شبیر شریف شہید،جوان سوار محمد حسین شہید،لانس نائیک محمد محفوظ شہید،کیپٹن کرنل شیر خان شہید،حوالدار لالک جان شہیداور ان کے ساتھ یقینی طورپر گمنام شہدابھی ہمارے ہیروز ہیں جنہوںنے دفاع وطن کیلئے قربانیوں کی ناقابل فراموش مثال قائم کی جو تاقیامت قائم رہے گی۔ہندوستان نے پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اداروں نے اس کا احساس نہ کیا تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا ، ہندوستان پاکستان کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارامقابلہ لومڑی کی طرح مکاراور عیار دشمن سے ہے ،ہمیںاس کی چالوں کو سمجھنا ہوگا، وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے اسی لیے کشمیر پر اس نے وار کیا ہے۔ نوجوانوں کو کہنا چاہتاہوں کہ نظریات پر توجہ دیں ، پاکستان کیوں اور کس مقصد کیلئے بنایا گیا اس کا مطالعہ کریں ۔پاکستان جنگ سے نہیں سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذریعے بنا تھا اس کی بنیاد1946کا الیکشن تھا۔ ہم نظریے کے بنیاد پر پاکستانی اور اپنی مرضی سے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہماری منزل پاکستان ہے۔مقبول بٹ، برہان وانی، افضل گورو سمیت تمام کشمیری شہداکی قربانیوں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ مظلوم کشمیر یوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے ب22کرو ڑ ، آزادکشمیر کے 45لاکھ اور گلگت کے15لاکھ عوام کبھی آپ کو نہیں چھوڑیں گے ۔ حکومت پاکستان سے کہتاہوں کہ یہ عملی اقدامات اٹھانے کا وقت ہے۔ اگر ہندوستان آبادی کے تناسب تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر آپ کے پاس کچھ نہیں بچے گا، کشمیری اپنی جدوجہد کو کسی قیمت رائیگاں نہیں جانے دینگے ، آخری سانس تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں