عاشورہ محرم کے پرامن جلوس پرپیلٹ گنوں کا استعمال مذہبی آزادی پر حملہ ہے ،سردار مسعودخان

اسلام آباد(اے ایف بی ) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں عاشورہ محرم کے پرامن جلوس پر بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے اندھے استعمال، آنسو گیس اور پیلٹ گنوں سے پچاس سے زیادہ عزا داروں کو زخمی اور سینکڑوں شہریوں کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے ۔

تحریک کشمیر برطانیہ اور سکاٹش ہیومن راءٹس فورم کے زیر اہتمام’’نئے چیلنجز اور نئی امیدوں ‘‘ کے عنوان سے مشترکہ ویب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت نے ایک جانب بھارتی ہندووَں کو امرناتھ یاترا کی کھلی اجازت دے رکھی ہے جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کو عزاداری سے روک دیا گیا ہے جو اْن کی صدیوں پرانی مذہبی روایت ہے ۔ کانفرنس سے عالمی آگاہی فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی، برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان افضل خان، مس علیسن تھیو لیس، سکاٹش پارلیمنٹ کے رکن انس سرور، حق خودارادیت کونسل کے کوارڈینیٹر رنجیت سنگھ صرائی اور مس کلیئر بیڈ ویل نے بھی خطاب کیا ۔

کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے سکاٹش ہیومن راءٹس فورم کا بطور خاص شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سکاٹ لینڈ سرزمین پر اس کانفرنس کے انعقاد سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی تحریک کے لئے ایک نیا دروازہ کھلا ہے ۔ انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے حمایت حاصل کرنے کے لئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی کی طرف مسلسل ویب کانفرنسز کرانے، نمایاں اراکین پارلیمنٹ سے روابط استوار کرنے، عالمی امور کے ماہرین، رائے سازوں اور ذراءع ابلاغ کو موبلائز کرنے پر اْن کا شکریہ بھی ادا کیا ۔

۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ممبر پارلیمنٹ مس علیسن تھیو لیس نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے عاشورہ محرم کے پرامن جلوس پر بھارتی فوج کے حملے کی شدید مذمت کی ۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن افضل خان نے کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ایک مفصل منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہ میں کشمیریوں کی تحریک آزادی اور حق خودارادیت کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا ۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ بھارت اپنی معاشی اور اسٹرٹیجک اہمیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کی سزا سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے اور دنیا اس کے جرائم سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں