خواتین کو صنعت و تجارت سمیت تعمیراتی شعبے میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں، ‘زیبا بختیار

کوئٹہ ( اے ایف بی) معروف فلم سٹار،ڈائریکٹر،کاروباری شخصیت زیبا بختیار نے کہا ہے کہ بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں،زندگی کے مختلف شعبوں میں انہیں بہتر مواقع فراہم کئے جائیں تو وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں، بحیثیت بلوچستانی یہاں کی خواتین کو درپیش مشکلات کا علم اور ادراک ہے،بلوچستان،صنعت و تجارت سمیت دیگر کے حوالے سے مشکل ترین صوبہ ہے۔خواتین کو ان کے حقوق طشتری میں رکھ کر نہیں ملیں گے بلکہ اس کے لئے انہیں میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان میں وومن چیمبر کی عہدیداران اور اراکین کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل روبینہ شاہوانی نے خیر مقدمی کلمات میں زیبا بختیار کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ آنے پر خوش آمدید کہا اور بتایا کہ بلوچستان کی خواتین با صلاحیت ہیں تاہم ان کے لئے رول ماڈل نہیں جس کے نقش قدم پر چل کر وہ منزل مقصود تک پہنچے،یہاں کی خواتین کو لیڈ کرنے کی ضرورت ہیں اس کے لئے آپ جیسی شخصیت موزوں ترین ہے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں خواتین روایتی طریقوں سے کاروبار کر رہی ہیں انہوں نے خواتین کو کاروبار کے لئے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لئے ساتھ دینے کا بھی کہا۔

معروف فلم سٹار،اداکارہ ،ڈائریکٹر اور کاروباری شخصیت زیبا بختیار نے کہا کہ میں بحیثیت بلوچستانی خاتون صوبے کی خواتین کو درپیش مشکلات سے بخوبی واقف ہوں میں خواتین کو صنعت و تجارت سمیت تعمیراتی شعبے میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں، بلوچستان صنعت و تجارت سمیت دیگر حوالوں سے مشکل ترین صوبہ ہے ۔خواتین کو ان کے حقوق طشتری میں رکھ کر نہیں دئیے جائیں گے بلکہ اس کے لئے انہیں میدان عمل میں نکلنا ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کا تعین دین اسلام نے کیا ہے ہم وہ حقوق چاہتی ہیں جو ہمیں اسلام اور قرآن دیتا ہے ان کا کہنا تھا کہ حقوق سے متعلق آگاہی نہ رکھنا ملک بھر کی خواتین کا مسئلہ ہے رول ماڈلز کی کمی سب کو ہے جو رول ماڈلز ہیں انہیں برداشت نہیں کیا جاتا مجھے بھی شاپنگ مال بناتے ہوئے آنکھیں دیکھائی گئی مگر میں کسی کو بھی خاطر میں نہیں لائی،ان کا کہنا تھا کہ میں فلموں میں اداکاری کے لئے بڑی جدوجہد کر کے نکلی اب تو لوگ بچیوں کو تعلیم کا حق دینے لگے ہیں پہلے تو اس کے لئے بھی بڑی جدو جہد کرنا پڑتی،ان کا کہنا تھا کہ خواتین کریم کے ٹیکسی اور موٹر سائیکل چلائیں لوگ کچھ دن بولیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے میں نے اپنے شاپنگ مال میں خواتین کے لئے الگ حصہ رکھنے بارے سوچا پر خواتین اپنا بزنس پلان تو دیں میں چاہتی ہوں کہ میرے شاپنگ مال میں 50 فیصد حصہ خواتین کو ملے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں