پیسوں کی ہوس;طلبہ کا جان بوجھ کر کورونا میں مبتلا ہونے کا انکشاف

لندن(اے ایف بی)کورونا وائرس کے علاج کے لیے پلازمہ تھراپی سامنے آنے کے بعد کورونا کے صحتیاب مریضوں کی جانب سے رقم کے عوض پلازمہ بیچنے کے واقعات بھی سامنے آئے لیکن اس حوالے سے اب ایک انوکھا ہی انکشاف ہوا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلازمہ کے عوض رقم کے لیے لوگ جان بوجھ کے کورونا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے سائنسدانوں کی جانب سے دن رات ویکسین کی تیاری کی کوششیں کی جا رہی ہیں جب کہ ماہرین کی جانب سے کورونا کے علاج کے لیے پلازمہ تھراپی بھی کی جا رہی ہے۔پلازمہ تھراپی طریقہ علاج میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے شخص کا پلازمہ مریض کو لگایا جاتا ہے۔کورونا وائرس کے علاج کے لیے پلازمہ تھراپی سامنے آنے کے بعد کورونا کے صحتیاب مریضوں کی جانب سے رقم کے عوض پلازمہ بیچنے کے واقعات بھی سامنے آئے لیکن اس حوالے سے اب ایک انوکھا ہی انکشاف ہوا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلازمہ کے عوض رقم کے لیے لوگ جان بوجھ کے کورونا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست یوٹاہ کی بریگھم ینگ یونیورسٹی کا دعوی ہے کہ متعدد طالب علم پیسوں کے عوض پلازمہ دینے کے لیے جان بوجھ کر کورونا وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔بریگھم ینگ یونیورسٹی نے اس کی شدید مذمت کی ہے اور حکام نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ طالبعلم چند پیسوں کے بدلے میں اپنی جان خطرے میں مت ڈالیں اور ایسا کرنے والے طالبعلموں کو معطل کردیا جائے گا۔اس کے علاوہ متعدد ڈونیشن سینٹرز نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ پلازمہ عطیہ کرنے والے شخص کو رقم دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بریگھم ینگ یونیورسٹی میں 119 طالبعلموں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جب کہ یونیورسٹی کے 20 ملازمین بھی کورونا کا شکار ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Protected with IP Blacklist CloudIP Blacklist Cloud