لڑکی سے لڑکی کی شادی ڈرامائی صورتحال؟

راولپنڈی (اے ایف بی)عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلا میں مبینہ طور پرہم جنس پرستی کی شادی کرنے والے جوڑے کی مسلسل تیسری بار عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لڑکا بن کر شادی کرنے والے علی آکاش کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں اور لاہور پولیس کو ہدائیت کی ہے کہ علی آکاش کو آج (بروزبدھ)عدالت میں پیش کیا جائے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر راولپنڈی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ علی آکاش کے دیئے گئے ایڈریس پر3مرتبہ رابطہ کیا گیا لیکن وہ وہاں موجود نہیں ہوا عدالت نے سماعت آج (بروز بدھ )تک ملتوی کر دی

معلوم ہوا ہے کہ ہم جنس پرستی کی مبینہ شادی کرنے والے علی آکاش نے اپنی بیوی نیہا کو طلاق دے دی ہے جس پر ثالثی کونسل نے نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو 22اگست کو طلب کر رکھا ہے ذراءع کے مطابق شادی شدہ جوڑے نے باہمی رضامندی سے طلاق لی ہے اور نیہا علی لاہور کے ایک شیلٹر ہوم ’’دستک‘‘ میں موجود ہے جبکہ علی آکاش نے اپنے وکلا کے ذریعے طلاق نامہ پولیس اور نیہا کے والدین کو بھجوا دیا ہے اس ضمن میں ٹیکسلا پولیس کا کہنا ہے علی آکاش کو سکیورٹی دینے کے حوالے سے اس کے وکیل سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن ان کی ملاقات نہیں کروائی گئی یاد رہے کہ ہم جنس پرستی کی مبینہ شادی کے خلاف نئی آبادی ٹیکسلا کی رہائشی 16سالہ نیہا کے والد سید امجد حسین شاہ نے علی آکاش عرف اسما بی بی بنت گلزار،اس کی والدہ مسماۃ ناظمہ شاہین زوجہ گلزار اوروالد گلزار ولد ولی محمد کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹیکسلا اور ایس ایچ او تھانہ ٹیکسلا کو فریق بناتے ہوئے عدالت عالیہ میں پٹیشن دائر کی تھی

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا مسلم آئیڈیل سیکنڈری سکول میں ٹیچر ہونے کے ناطے اسما بی بی نے اس کی16سالہ بیٹی نیہا سے تعلقات استوار کئے دونوں کے تعلقات کا علم ہونے پر اس نے نیہا کو سکول سے ہٹا لیا لیکن اس کے باوجوداسما بی بی نے اس سے خفیہ رابطہ رکھا اس دوران اسما بی بی نے اپنا نام تبدیل کر کے علی آکاش رکھ لیا اوررواں سال26فروری کوجعلی کاغذات کے ذریعے میری بیٹی سے نکاح کر لیاحالانکہ درخواست گزار کی بیٹی نابالغ ہے اور چونکہ اسلام میں ہم جنس پرستی کی شادی حرام ہے جس کے لئے درخواست گزار نے 29جون کو ٹیکسلا کی ماتحت عدالت میں بیٹی کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کی کہ درخواست گزار اپنی بیٹی کو وہاں نہیں چھوڑنا چاہتا لہٰذا عدالتی کاروائی کے ذریعے درخواست گزار کی بیٹی واپس دلوائی جائے لیکن 30جون کوعدالت نے درخواست میں حقائق کو مدنظر رکھے بغیر اور درخواست گزار کو سنے بغیر عجلت میں فیصلہ دیا15جولائی کو پٹیشن کی ابتدائی سماعت کے بعد عدالت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ڈاکٹروں کا4رکنی بورڈ تشکیل دینے اور آکاش علی عرف اسما بی بی کی جنس سے متعلق تفصیلی میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا حکم دیاتھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں