خانہ کعبہ اور حجر اسود کوچھونا منع ، حج کے متعلق نئے قواعدوضوابط جاری

مکہ مکرمہ(اے ایف بی)سعودی عرب نے رواں سال حج سے متعلق نئے قواعدوضوابط جاری کردیئے ہیں جو مسجدالحرام، منی، میدان عرفات، مزدلفہ اورقیام وطعام سے متعلق ہیں۔عازمین حج اورحج عملے کو ماسک اور دستانے پہننا ہوں گے۔ حجاج کرام کے سر کے بال تراشنے والے ایک دوسرے کے آلات استعمال نہیں کرسکیں گے۔عازمین حج نمازکیدوران ایک دوسرے سے2میٹرفاصلے کی پابندی کریں گے۔ رمی کیلییحجاج کو پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔طواف کیلیے مطاف جانیوالوں کی قافلہ بندی ہوگی۔ طواف کے دوران کم از کم ڈیڑھ میٹرکا فاصلہ رکھنا ہوگا۔

حج کے نئے قواعدوضوابط کے مطابق خانہ کعبہ یا حجراسود کوچھونا منع ہوگا۔چھونے اور چومنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں رکھی جائیں گی۔ اس پر عمل درآمد کے لیے نگراں تعینات ہوں گے۔مسجد الحرام میں کھانیکی اشیا لانے پرپابندی ہوگی۔ صحن میں کھانیکی اجازت نہیں ہوگی۔ پانی پینے یازمزم پانی کے لیے قابل تلف(ڈسپوزیبل)بوتلیں اور ڈبیاستعمال کیے جائیں گے۔کھانے پینے کے برتن دوبارہ استعمال کرنیکی اجازت نہیں ہوگی اور بسوں میں عازمین کی تعداد متعین ہوگی۔پورے سفر کے دوران ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی۔ کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔سعودی عرب کی سرکاری خبرایجنسی العربیہ کے مطابق 18 جولائی 2020، 28 ذیقعد سے 12 ذی الحج تک منی، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت کے بغیر جانا منع ہوگا۔لفٹ استعمال کرتے وقت سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔ ذاتی صفائی کا ہر حاجی کے لیے دھیان رکھنا ضروری ہوگا۔ سینیٹائزر نمایاں مقامات پر رکھنا ہوں گے۔رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں میں بیٹھنے اور انتظار کرنے کی جگہوں کو مسلسل سینیٹائز کیا جائے گا۔ دروازوں کے ہینڈل، کھانے کی میز، کرسیوں اور صوفوں کے ہتھے سینیٹائز کیے جائیں گے۔کھانا تیار کرنے، پیش کرنے سے قبل، حمام سے نکلنے کے بعد، کسی کو ہاتھ ملانے یا چھونیکے بعد صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا ہوں گے۔

عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایسے کسی بھی شخص کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں انفلوائنزا جیسی علامات ہوں گی۔ ایسے کسی بھی شخص کو علامتیں ختم ہونے تک حج مقامات پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجازت نامے کے لیے اسے ڈاکٹر سے فٹنس سرٹیفیکیٹ لینا ہوگا۔قومی مرکز کے مطابق منی میں جمرات کی رمی کے لیے سینیٹائز کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔ منی میں 10، 11، 12 اور 13 ذی الحج کو حجاج رمی جمرات کرتے ہیں۔جمرات کی رمی کے حوالے سے طے کیا گیا ہے کہ 50 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو ہر منزل پر رمی کے لیے جانے کی اجازت دی جائے گی۔رمی کرتے وقت ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی خیمے میں 10 سے زیادہ حاجیوں کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر خیمہ 50 مربع میٹر کا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں