نیپال کیساتھ تعلقات کشیدہ،ریڈیو سٹیشنوں سے بھارت مخالف نغمے نشر

کھٹمنڈو(اے ایف بی) لداخ کی وادی گلوان میں چین کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد مودی حکومت کی فسطائی پالیسیوں کے باعث بھارت کے نیپال کیساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں ۔ بھارتی ذراءع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق نیپال کے ریڈیو سٹیشنوں سے بھارت مخالف نغمے نشر کرنا شروع کر دیئے گئے جو بھارتی صوبے اترکھنڈ میں بھی سنے جا سکتے ہیں ۔ سرکاری میڈیا کے مطابق نغموں میں نیپال کے عوام کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اترکھنڈ کے علاقے کالا پانی ;76;ipulekh اور;76;impiyadhura واپس لینے ہیں جنہیں نیپال نے اپنے نئے نقشے میں بھی شامل کیا ہے ۔

نیپال کیساتھ تعلقات کشیدہ،ریڈیو سٹیشنوں سے بھارت مخالف نغمے نشر” ایک تبصرہ

  1. دنیا بھر کی انٹیلجنس ایجنسیاں یہ بات مانتی ہے کہ بھارت کو لداخ کے راستے پر گردن سے پکڑنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

    بھارت کو لداخ کے علاقے کی اہمیت کا خوب اندازہ ہے لیکن بھارت اپنے ہی کئے پر پھنس چکا ہے کشمیر پر آرٹیکل 360 لگا کر بھارت نے نیپال اور چائنہ کے لئے راستہ ہموار کیا ہے اور بھارت کو اب یہ سمجھ آرہا ہے کہ کیوں پاکستان کشمیر کے معاملے پر خاموش رہا۔

    چائنہ نے (پاکستان کے کہنے پر) لداخ کے جس علاقے پر قبضہ کیا ہے وہ گلگت بلتستان کو آنے والا واحد راستہ تھا جو اب بھارت کی پہنچ سے نکل چکا ہے اور اس کے علاوہ باقی جو علاقہ قبضہ کیا ہے وہ جموں کشمیر کی طرف آنے والا واحد راستہ ہے۔

    یاد رکھیں جموں کشمیر میں اس وقت تقریباً چھ سے سات لاکھ بھارتی فوج موجود ہے اور بھارتی فوج کی سپلائی اسی واحد راستے سے ہوتی ہے اب بھارتی فوج کیلئے جموں کشمیر سے واپس ہونا کافی حد تک مشکل ہو چکا ہے اور تقریباً ذیادہ تر بھارتی فوج کے آفیسر یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ جو حال پاکستان نے امریکہ کا افغانستان میں کیا تھا وہی انکے ساتھ ہونے والا ہے۔

    مزید گیم تو سب کو سمجھ آچکی ہے لیکن دیکھتے ہیں کہ بھارت اب اس سارے معاملے کو کیسے ڈیل کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں