حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پر حملہ قبر کی بے حرمتی

umar r

شام (اے ایف بی)شام کے صوبہ ادلب کے شمال مشرقی علاقے میں بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے آٹھویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار ان کی زوجہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے خادم کی قبریں موجود تھیں جن پر گزشتہ روز شدت پسندوں نے حملہ کیا اور قبر سے جسد مبارک کو نکال کر ان کی بے حرمتی کی گئی۔ مزار کی بےحرمتی کی سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے صارفین نے اس افسوس ناک واقعہ پر شدید ردعمل دیا ہے اور بھرپور مذمت کی ہے۔ مزار پر رکھا سامان غائب کردیا گیا۔ میرات النعمان کے علاقہ میں دیار الشرقی گاو¿ں میں واقع اس جگہ پر رواں سال فروری میں حکومت اور ملیشیا کی افواج کے قبضے کے بعد اس قبرستان کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ترک خبر رساں ادارے کے مطابق عمر بن عبد العزیز کی باقیات کے مقام سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی عمر ابن عبد العزیز جو پیغمبر کے ساتھی اور دوسرے خلیفہ عمر ابن الخطاب کے فرزند تھے ان کو ایک حکمران کی حیثیت سے مسلم دنیا میں انتہائی احترام حاصل ہے جنہوں نے آٹھویں صدی میں 7 سال کے مختصر وقت میں انصاف قائم کیا انہوں پانچویں صحیح راہنما خلیفہ کا بھی خطاب ملا۔بشارالاسد کے دور حکومت میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ مدفون لوگوں کی قبروں کی بےحرمتی کی گئی ہو۔ فروری 2020 میں بھی ایسی ویڈیوز منظرعام پر آئیں تھیں جن میں حکومتی قوتوں اور ملیشیاو¿ں نے سنی علاقوں میں متعدد اپوزیشن جنگجوو¿ں اور کمانڈروں کی قبروں کی بے حرمتی کی تھی۔ان ویڈیوز میں شامی فوجیوں کو لاشوں کی کھوپڑی سے کھیلتے دکھایا گیا تھا۔ مبینہ طور پر 2015 میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے میں آئے تھے جب حکومت کی فورسز نے حمص میں درجنوں قبریں نکالیں اور لاشوں کو چرا لیاتھا۔پاکستانی علما نے بھی اس حوالے سے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتی سطح پر شامی حکومت سے رابطہ کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے بلکہ شامی حکومت سے اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں