31 جولائی تک حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں جھاڑو پھر جائے گا، شیخ رشید

شیخ رشید

راولپنڈی (اے ایف بی)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 31 جولائی تک حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں جھاڑو پھر جائے گا ۔ چینی سکینڈل میں جو لوگ آئے ہیں قوم انہیں معاف نہیں کرے گی اگر ہماری طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی تو قوم ہ میں بھی معاف نہیں کرے گی،چینی، آٹے اور آئی پی پیز والے سب عوام کے سامنے پیش ہوں گے ۔ خسارہ تو ہوگا مگر ریلوے عوام کی ہے، ان کی خدمت کرنی ہے، ہم نے آڑھت نہیں کرنی ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر ٹرینوں کی آمدورفت کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈی ایس ریلوے سید منور شاہ ، ایس ایس پی ریلوے راجہ ظہیر اقبال اوردیگر افسران بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین آپریشن جزوی طور پر بحال ہو گیا ہے ۔ تاہم آن لائن ٹکٹ میں خامیاں ہیں جسے دور کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف ٹاران بنے ہوئے ان کو پتہ لگ گیا کہ میرا نام واچ لسٹ میں آگیا اور میں جا رہا ہوں ، بلیک لسٹ میں اس کا نام آچکا ہے میں اب اگلا مرحلہ ای سی ایل میں وہ ڈال دیا جائے گا، انہوں نے کہاکہ ختم نبوت کی کس کو جرات نہیں کہ وہ مخالفت کرے ، ہم ناموس رسالت کے سپاہی ہیں ، یہ چھوٹے موٹے لگے رہتے ہیں لگے یا فیصلے کا وقت ہوگا،انہوں نے کہاکہ آئی پی پیز کا نیا بورڈ بن گیا جس کا سربراہ بابر یعقوب ہوگا اور اس میں بیرسٹر داود اور محمدعلی بھی ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ ملتان، سکھر، کراچی، کوءٹہ، پشاور اور راولپنڈی سے ٹرینیں چلی ہیں ۔ پوری کوشش ہے کہ ایس او پیز پر عمل ہو ۔ پوری دنیا میں 70 فیصد مسافروں کے ساتھ فاصلہ رکھا گیا ہے، ہم نے 60 فیصد مسافروں کے ساتھ فاصلہ رکھا ۔ زیر ریلوے کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے صرف صرف ٹی وی پر اعتراض کیا ۔ خسارہ تو ہوگا مگر ریلوے عوام کی ہے، ان کی خدمت کرنی ہے، ہم نے آڑھت نہیں کرنی ۔ شیخ رشید نے کہا کہ 31 جولائی تک بہت سی تحقیقات ہوں گی، جھاڑو پھرے گا ۔ شہباز شریف ٹارزن بنا ہوا ہے، اس کو پتا ہے میرا نام ای سی ایل میں آ رہا ہے ۔ چینی، آٹے اور آئی پی پیز والے سب عوام کے سامنے پیش ہوں گے ۔ وزیرریلوے شیخ رشید نے بتایا کہ ٹرین آپریشن جزوی طور پر بحال ہوگیا ہے اور میں ٹرین چلانے کیلئے تعاون کرنے پر تمام صوبوں کا مشکور ہوں ۔ ہم نے ٹرین آپریشن کوبحال کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور آج سے ملتان، سکھر، کراچی، کوءٹہ، پشاور اور راولپنڈی سے ٹرینیں چلی ہیں ۔ ریلوے اسٹیشنز پر ایس او پیز پر عملدرآمد کرا رہے ہیں ۔ کوءٹہ، کراچی، راولپنڈی، لاہور، پشاور سے آج 30 ٹریننیں چلائی گئی ہیں ۔ وزیر ریلوے نے بتایا کہ شروع میں ٹرین چلانے کے لیے کوئی صوبہ تیار نہیں تھا لیکن بات چیت مسئلہ حل کیا گیا اور سندھ حکومت نے بھی اعتراض نہیں کیا وزیراعظم نے ابتدائی طور پر ایس او پیزکے ساتھ 30 ٹرینیں چلانے کی منظوری دی ہے اور اگر یکم جون تک حالات بہتر ہوئے تو تمام ٹرینیں چلا دیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں