رمضان عادل اور ظفر رشید بھٹی اور میں

zarar

تحریر ضرار فرید
یکم اپریل 1995ءکو میں نے اے پی پی میں اپنی سروس کا آغاز کیا میری پہلی ڈیوٹی آر اینڈ آئی سیکشن میں لگی اس سیکشن کے انچارج ڈپٹی نذیر احمد مرحوم تھے اپریل کے وسط میں اے پی پی ایمپلائز یونین (سی بی اے ) کے الیکشن ہونے جا رہے تھے دونوں گروپ کی تیاریاں اور جوڑ تور عروج پر تھا میں بھرتی ہونے سے پہلے دفتر میں نوکری کی غرض اور اپنے والد محترم حاجی غلام فرید مختار صاحب کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے اکثر جاتا تھا چند لوگوں کے علاؤہ میں کسی کو نہیں جانتا تھا سلطان خان سٹور انچارج نے مجھے ظفر رشید بھٹی صاحب سے ملاقات کرائی تھی وہ اس وقت یونین کے صدر تھے بہت گرم جوشی سے گلے لگا کے ملے اور میرے والد صاحب کی بہت تعریف کی اور مجھے ڈی جی اسلم شیخ کے سیکرٹری کے پاس لے گئے اس سے میری نوکری کا کہہ کر وہاں سے چلے گئے اس سیکرٹری نے میرے کاغذات غیب کر دیے اور مجھے بار بار چکر لگواتا رہا اورگولی کرا دیتا ایک آرمی آفیسر کے ٹیلی فون پر مجھےنوکری ملی بعد ازاں دونوں گروپ مجھے نوکرکرانےکا دعویٰ کرتے تھے لیکن بات اس کی برعکس تھی کیونکہ نعیم چوہدری یونین کے جنرل سیکرٹری تھے یہ یونین سال 1994ء کی تھی اس وقت ایک سال کے لیے الیکشن ہوتے تھے
اپریل 1995ء کے الیکشن میں ظفر بھٹی گروپ اور نعیم چوہدری اینڈ عادل گروپ نے حصہ لیا تھا اس الیکشن میں ظفر بھٹی گروپ 9 سیٹ سے کامیاب ہوگیا اور عادل گروپ کے سیف السلام ہاشمی کامیاب ہو سکا ظفر رشید بھٹی صدر اور مراد اعوان مرحوم جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے الیکشن کے درمیان ڈپٹی نذیر احمد مرحوم بار بار مجھے عادل گروپ کی خوبیاں اور کارنامے سناتے اور میرا سارے دھیان اور توجہ عادل گروپ کی راغب کر دیا الیکشن کے چند ماہ بعد اے پی پی میں بطورِ ڈی جی اظہر سہیل کی تعیناتی ہوئی تو اے پی پی کی سیاست میں نیا ہنگامہ برپا ہوگیا اظہر سہیل اور اس وقت کے ای ڈی رشید احمد چوہدری نے رمضان عادل گروپ کی ساری لیڈر شپ کو آؤٹ سٹیشن ٹرانسفر کر دیا جن میں رمضان عادل صاحب۔ نعیم چوہدری۔ اقبال چیمہ۔ راجہ منظور۔ ارشد مجید وغیرہ شامل ہیں رمضان عادل مرحوم کو تو فٹبال کی طرح ایک ماہ میں پانچ سٹیشن پر بھیجا گیا کچھ ٹائم میں نعیم چوہدری اور جاوید اختر نے انتظامیہ کے ساتھ انڈر سیٹنگ کرکے سب کی ٹرانسفر اسلام آباد واپس کرو لی پھر الٹی گنتی شروع ہو گئی ظفر بھٹی گروپ کی باری آئی اور ٹرانسفر کا سلسلہ شروع ہوگیا ظفر رشید صاحب اس وقت ویج بورڈ ایوارڈ کے ممبر بھی تھے انہوں نے اظہر سہیل اور انتظامیہ کے خلاف مظاہرے شروع کر دے اظہر سہیل اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بہت ہی قریب تھے اظہر سہیل اور رشید احمد چوہدری نے پوری یونین کو نوکری سے فارغ کردیا لیکن ظفر رشید کو چھوڑ دیا یہ غلطی اظہر سہیل کو بہت مہنگی پڑی کیونکہ ظفر رشید کا کافی اثر ورسوخ تھا باہر کی یونین کے ساتھ مل کر تحریک کا آغاز کیا اس تحریک کے روح رواں ظفر رشید تھے بینظیر بھٹو کو جنرل اسمبلی جانا تھا ظفر رشید بھٹی نے وہاں پر بھی باقی تنظیموں کے ساتھ مل کر وزیراعظم پاکستان کے خلاف مظاہرے کی دھمکی دی اور وہ دھمکی کام کرگئی وزیراعظم نے اظہر سہیل کو یونین بحال کرنے کا حکم دیا اس سارے وقت میں نہ صرف ظفر رشید بھٹی ثابت قدم رہے بلکہ بہت زیادہ مالی تعاون کیا ظفر رشید بھٹی دفتر کے بہت سارے لوگوں کی مالی امداد اور ادھار بھی دیتے تھےکچھ وقت کے بعد بینظر بھٹو حکومت کوگرا دیا نگران حکومت میں ظفررشید بھٹی اور ان کے ساتھی ایم آفتاب کو پھر سے ڈی جی اے پی پی لانے میں کامیاب ہو گے ایم آفتاب بہت سخت اور تلخ طبعیت کے مالک تھے تمام ورکرز بہت زیادہ ایم آفتاب سے تنگ آگئے تھے اس دوران رمضان عادل صاحب یونین کے صدر تھے اور اقبال چیمہ مرحوم جنرل سیکرٹری تھے دونوں گروپوں نے مل کر ایم آفتاب کے خلاف تحریک شروع کی بڑی جہدوجہد کے بعد ایم آفتاب کو گھر جانا پڑا اس جہدوجہد کے دوران مراد اعوان بیماری کے باعث وفات پا گئے۔ ظفر رشید بھٹی نے پھر قربانی دی گروپ کا نام تبدیل کر کے مراد اعوان گروپ رکھ دیا جو آج تک اسی نام سے موجود ہے
رمضان عادل صاحب بھی انتہائی شریف النفس اور بہت بہادر انسان اور بہت اچھے صحافی بھی تھے بہت زیادہ جانی ومالی قربانیاں بھی دی دونوں گروپ کے لوگ ان سے بےپناہ محبت کرتے تھے آج بھی رمضان عادل صاحب کے نام سے گروپ چل رہا ہے رمضاں عادل نے بہت سارے لوگوں کو ہمک ماڈل ٹاؤن میں پلاٹ آسان اقساط پر حاصل کر کے دیے 1977ء اور1987ء کے یونین مینجمنٹ ایگریمنٹ رمضان عادل صاحب کے بہت بڑے کارنامے تھے رمضان عادل صاحب نے بہت سارے لوگوں کی ترقیاں بھی کروائی تھی رمضان عادل صاحب کو بہت زیادہ پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے  ٹھکردی انہوں نے اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کیا 2003ء مین ریٹائرمنٹ کے وقت بیورو چیف اے پی پی راولپنڈی تھے مجھے سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے کافی وقت علالت کی وجہ سے بستر پر رہے ایک دن ہم عیادت کے ان کے گھر گے ہم چھ لوگ تھے ارشد مجید چوہدری نے سب کا تعارف کرایا جب میری باری آئی تو رمضان عادل صاحب نے چوہدری صاحب کو یہ کہہ کے خاموش ہونے پر مجبور کر میں ضرار فرید کو نہیں پہنچانوں گا تو اور کس کو پہچانوں گا یہ میرا بیٹا ہے رمضان عادل صاحب کی یہ بات میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھی آج تک میں عادل گروپ کے ساتھ کھڑا ہو اور کھڑا رہوں گا میں عادل گروپ کی یونین میں منتخب ہوتا رہا اور موجود یونین کا بھی حصہ ہوں رمضان عادل صاحب کی وفات پر قبر میں اتار نے اور دفنانے تک کے عمل کا حصہ تھا اللہ پاک رمضان عادل صاحب کی کامل مغفرت اور بخشش فرمائے آمین
ظفر رشید بھٹی صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد تبلیغی جماعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں کام کر رہے تھے کرونا وائرس کا شکار ہوئے اور ہسپتال میں داخل تھے اور رمضان میں خالق حقیقی سے جا ملے اور شہید کا مقام حاصل کیا انکی نماز جنازہ کا کسی کو نہیں بتایا گیا ورنہ ہر صورت ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کرتا اللہ پاک انکی کامل مغفرت اور بخشش فرمائے
آخر میں میری دعا ہے اے پی پی کے تمام مرحومین کی کامل بخشش اور مغفرت کے لیے دعاگو ہوں اور تمام موجودہ اور ریٹائر ساتھیوں کی صحت  تندرستی اور خوشحالی اے پی پی کی سلامتی اور ترقی کے لیے دعاگو ہوں اگر کسی کو میری کوئی بات بری لگی ہو تو میں معافی چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ سب کا حامی و ناصر ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں