زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات۔۔

عوام، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں،سب کے لیے

کچھ رقوم اور ان کی زکوۃ

💠40ہزار پر ایک ہزار روپے
40000 ÷ 40=1000

💠80 ہزار پر دو ہزار روپے
80000÷40=2000

💠ایک لاکھ پر ڈھائی ہزارروپے
100000÷40=2500

💠دولاکھ پر پانچ ہزارروپے
200000÷40=5000

💠تین لاکھ پر ساڑھے سات ہزار زکوٰۃ
300000÷40=7500

💠چارلاکھ پر دس ہزار روپے
400000÷40=10000

💠پانچ لاکھ پر ساڑھے بارہ ہزار روپے
500000÷40=12500

💠دس لاکھ پر پچیس ہزارروپے
1000000÷40=25000

💠بیس لاکھ پر پچاس ہزار روپے
2000000÷40=50000

💠تیس لاکھ پر پچھتر ہزارروپے
3000000÷40=75000

💠40 لاکھ پر ایک لاکھ روپے
4000000÷40=100000

💠50 لاکھ پر ایک لاکھ 25 ہزار روپے
5000000÷40=125000

💠ایک کروڑ پر ڈھائی لاکھ روپے
10000000÷40=250000

زکوۃ ان چیزوں پر واجب ہے

✅ سونا چاندی
✅سونے چاندی کے زیورات
✅نقدی یا نقد پذیر دستاویزات
✅مال تجارت
✅بیچ کر نفع کمانے کی نیت سے لیا گیاپلاٹ
✅کاروبار کی نیت سے خریدی گئی تمام چیزیں
✅کمیٹی کی جمع کرائی گئی اقساط
✅دیا گیا قرض جس کی واپسی کی امید ہو
✅انشورنس اور پرائز بانڈ کی اصل رقم
✅ شئیرز
✅زمین کی پیداوار
✅باہر چرنےوالےجانور

ان چیزوں پر زکوۃ واجب نہیں

➖ ضروریات زندگی
➖رہنے کا مکان
➖واجب الادا قرضے
➖استعمال کی گاڑیاں
➖ضرورت سے زائد سامان جو تجارت کے لیے نہ ہو
➖پہننے کے کپڑے
➖یوٹیلیٹی بلز
➖ملازمین کی تنخواہیں

♦زکوٰۃ ادا نہ کرنے کا وبال

📌 1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر6-7)

📌2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)

📌3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہے۔(طبرانی)

📌4 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کے دن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہوں گے۔(البقرہ277)

📌5۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔(التوبہ103)

زکوٰۃکس پر واجب ہے؟

ہرعاقل،بالغ،مال دارمسلمان مردہویاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔
🔸بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔۔۔
🔘نوٹ۔۔۔۔سود، رشوت ،چوری ڈکیتی، اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال استعمال کرنا درست نہیں، اسے بغیر ثواب کی نیت کیےاللہ کی راہ میں صدقہ کرنا واجب ہے۔ ان سے زکوۃدینے کابالکل فائدہ نہیں ۔۔۔
✔صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ ۔صدقہ قابل قبول ہے۔۔

⬅سونے کی زکوٰۃ:
💠88گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکوۃ واجب ہے۔(ابن ماجہ1/1448)

🔴نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکوۃ واجب ہے۔(سنن ابوداؤد)

⬅چاندی کی زکوٰۃ:
💠612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکوۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
✅زکوٰۃ کی شرح:
💠زکوۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن ڈھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکوۃ)

💠کرایہ پردیے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراس کاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھراس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃنہیں۔شرح زکوٰۃ ڈھائی فیصد ہوگی۔

✅گاڑیوں پر زکوٰۃ:
💠کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اس کے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کےساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔

⛔نوٹ:
گھریلو استعمال والی گاڑیوں،جانوروں،حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں۔ (صحیح بخاری)

✅سامان تجارت پر زکوٰۃ
💠دکان کسی بھی قسم کی ہو اس کےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔

✅کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
💠ماں باپ اور اولاد کو زکات نہیں دی جاسکتی۔۔۔
،اسی طرح میاں بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا۔۔۔ اس کے علاوہ سب مستحق مسلمانوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے۔
والدین،اولاد اور بیوی پر اصل مال خرچ کریں زکوۃ نہیں۔۔

⛔نوٹ:
(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اور اولاد میں پوتے پوتیاں،نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔۔۔

🔖زکوٰۃکےمستحق لوگ
🔸1۔مساکین(حاجت مند)
🔹2۔غریب
🔸3۔حکومت کی طرف سے زکوۃوصول کرنےوالے نمائندے
🔹4۔مقروض
🔸5۔نومسلم جو غریب ہو۔
🔹6۔قیدی
🔸7۔ مجاہدین
🔹8۔مسافرجس کے پاس فی الحال نصاب نہ ہو۔ (سورۃالتوبہ60)

اپنا تبصرہ بھیجیں